بنگلور۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آ ف انڈیا کے ریاستی صدر
عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ کرناٹک کی ریاستی حکومت کا مالی مجبوریوں کا بہانہ بنا کر نئی قائم ہونے والی دس میں سے نو یونیورسٹیوں کو بند کرنے کا فیصلہ سراسر احمقانہ ہے۔ ریاستی صدر عبدالمجید نے مزید کہا کہ تعلیم کو بہتر بنانے اور سب کے لیے رسائی کو یقینی بنانے کے منصوبے بنانے کے بجائے، حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع چھین لیے جائیں گے بلکہ مقامی طلباء کو ان کے اپنے اضلاع میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی سہولت سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے، ہندوستان میں پہلے ہی فی کس یونیورسٹیوں کی تعداد کافی کم ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزید کالج اور یونیورسٹیاں قائم کرے۔ تاہم، اس فرض کو پورا کرنے کے بجائے، کرناٹک حکومت مالی مجبوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ یونیورسٹیوں کو بند کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان 9 یونیورسٹیوں کو چلانے کے لیے 342 کروڑ روپئے کا سالانہ بجٹ درکار ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ کرناٹک کا ریاستی بجٹ تقریباً 3.50 لاکھ کروڑ سالانہ ہے، کیا اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف 350 کروڑ مختص کرنا واقعی ناممکن ہے؟
اگر حکومت سیاسی آسائشوں پر ہونے والے غیر ضروری اخراجات کو صرف 10-20 فیصد تک کم کر دے تو یہ یونیورسٹیاں بغیر کسی مالی رکاوٹ کے کام کر سکتی ہیں۔ حکومت مبینہ طور پر کمبھ میلے میں اراکین اسمبلی کے اسنان کی سہولت کے لیے 50-60 لاکھ روپے خرچ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر واقعی ریاست میں کوئی مالی بحران ہے تو اس طرح کے اخراجات کیسے جائز ہیں؟ عبدالمجید نے سدارامیا حکومت سے اس کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ گھٹیا بہانے بنا کر ریاست کے مستقبل سے کھیلنا بند کرے اور تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے پر توجہ دے۔

Comments
Post a Comment