کانگریس حکومت میں ریاستی پولیس اگر ملزم مسلمان ہے تو اس کے ساتھ بھی دوہر ا سلوک کرتی ہے۔عبدالمجید، ایس ڈی پی آئی
بنگلور۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیمو کریٹک پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر
عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کانگریس حکومت تو مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے اور دوسری طرف ریاستی پولیس اگر ملزم مسلمان ہے وہ اس کے ساتھ بھی دوہرا سلوک کرتی ہے۔ عبدالمجید اتر کنڑ، ہوناور میں حالیہ دنوں میں دو گائے کے چوری کے معاملے میں 80سے زیادہ سے لوگوں کو حراست میں لیکر انکوائری اور فیضان نامی ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کے بعد محضر کیلئے لے جاتے وقت فرار ہونے کی کوشش کرنے کے الزام میں اس کے پیر پر گولی مارنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جرم کی سزا دی جانی چاہئے، لیکن قانون ہاتھ میں لیکر ملزم کو گولی مارنا سراسرغیر قانونی ہے۔ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالمجید نے اس بات کی یاد دلائی کہ اسی علاقے میں پریش میستا کی غیر فطری موت کے معاملے میں 11 دسمبر 2018 کو منوادی تنظیموں نے کاروار، ہوناور، کمٹا اور منڈگوڈ (اتر کنڑ ضلع) میں بند کی کال دی تھی۔ کمٹہ میں احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیاتھا-آر ایس ایس، بجرنگ دل والوں نے آئی جی پی کی گاڑی کو تک آگ لگا دی، پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، اور کئی اہلکار زخمی ہوئے، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کے باوجود، اترا کنڑ پولیس نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔لیکن ہوناور میں، فیضان — مویشی چوری کے الزام میں گرفتار — کو پولیس نے ٹانگ پر گولی ماری ہے۔جب ملزم مسلمان ہوتا ہے تو پولیس کا رویہ، لاٹھیاں، گولیاں سب باہر نکلتی ہیں!۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالمجید نے مزید سوال اٹھایا کہ بیلکری بندرگاہ میں 450کروڑ کی مالیت کے3,100میٹرک ٹن لوہے کو چرا کر اس کی غیر قانونی برآمد میں ملوث تھے۔ ان پر پولیس نے کوئی گولی نہیں چلائی۔؟۔ المیہ یہ بھی ہے کہ فیضان کے معاملے میں نا انصافی کو وزیر انچارج منکل ایس ویدیا کو مذمت کرنی چاہئے تھی، لیکن وہ خاموش ہی رہے۔ عبدالمجید نے سوال اٹھا یا کہ 1۔تربیت یافتہ پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں ملزم کیسے فرار ہو سکتا ہے؟۔2۔اگر وہ بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا، تو کیا تربیت یافتہ پولیس اہلکار اس طرح کے انتہائی اقدام کیے بغیر اسے پکڑ نہیں سکتے تھے؟ کیا پولیس اتنی کمزور ہے؟۔3)۔محضر(مقام جرم کا معائنہ) کے دوران، کیا عوامی گواہوں یا صحافیوں کا موجود ہونا لازمی نہیں ہے؟۔4۔محضرکی ویڈیو کیوں ریکارڈ نہیں کی گئی؟۔ عبدالمجید نے آخر میں سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کرناٹک پولیس اسٹیٹ بن رہی ہے جہاں عدالت کسی کو مجرم قرار دینے سے پہلے ہی سزا سنائی جاتی ہے؟میں اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات پر زور دیتا ہوں۔

Comments
Post a Comment