بی جے پی کے وزیر نتیش رانا کا کیرالہ کے خلاف نازیبا بیان قابل مذمت۔ سی پی ایم لیڈر اس کے ذمہ دار ہیں۔ ایس ڈی پی آئی
ایسے فرقہ پرستوں کا ہونا ملک کی بے عزتی ہے جن کے دماغ میں دوسرے مذاہب کے خِلاف نفرت بھری ہوئی ہے جو ایک جمہوری ملک کے شایان شان نہیں ہے۔ نسل پرست نتیش رانا کو وزارت سے برطرف کیا جا نا چاہیے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
بی جے پی لیڈر نے متنازعہ بیان دیا ہے کہ کانگریس لیڈر راہل اور پرینکا نے کیرلا میں انتخابات اس لیے جیتے کیونکہ 'کیرالہ ایک منی پاکستان ہے۔' یہ انتہائی قابل اعتراض ہے کہ یہ سی پی ایم لیڈر ہیں جنہوں نے ریاست میں اس نفرت انگیز بیان کا پرچار شروع کیا تھا۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سی پی ایم کے لیڈران ہی ہیں جو تمام نسلی اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کے بانی ہیں جو سنگھ پریوار شمالی ہندوستان میں پھیلاتا ہے۔
سریمتی ٹیچر اور سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری ایم وی گووندن سمیت لیڈران وجئے راگھون کے نفرت انگیز بیان پر تالیاں بجا کر حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ عوام کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ سنگھ پریوار ہے جو اس سارے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی فصل کاٹتا ہے، سی پی ایم لیڈروں کو ذرا بھی پریشان نہیں کرتا ہے۔ یہ بی جے پی اور سی پی ایم دونوں کی طاقت کی سیاست کے لیے ضرورت پڑنے پر فرقہ وارانہ نفرت کے پروپیگنڈے کا استعمال کرنے کی مثالیں ہیں۔ عبدالجبار نے کہا کہ یہ سی پی ایم کا منافقانہ چہرہ ہے کہ وہ سب سے بڑی سیکولر اور فسطائیت مخالف پارٹی ہونے کا دعوعی کرتی ہے جو اب دھیرے دھیرے اور روزانہ بے نقاب ہو رہی ہے۔

Comments
Post a Comment