سی پی آئی ایم لیڈران اسلامو فوبیا پھیلا رہے ہیں۔ سی پی اے لطیف۔ایس ڈی پی آئی

کالی کٹ۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا  کے ریاستی صدر سی پی
اے لطیف نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ سی پی آئی ایم کے لیڈران مسلسل اسلامو فوبیا پھیلا رہے ہیں، اور وہ اس طرح کے پروپیگنڈے سے خوشی حاصل کرنے میں آر ایس ایس سے کہیں زیادہ گھناؤنے ثابت ہوئے ہیں۔وہ ویاناڈ میں مسلم ووٹروں کے خلاف سی پی ایم پولیٹ بیورو کے رکن وجئے راگھون کی تضحیک آمیز تقریر کا جواب دے رہے تھے۔یہ سی پی آئی ایم ہی رہی ہے جس نے مسلم کمیونٹی سے ابھرنے والی سیاسی تنظیموں کو انتہا پسند قرار دیتے ہوئے ان سے دور ی رکھنے کا طریقہ وضع کیا تھا۔اس کو صرف بعض سی پی آئی ایم کے لیڈروں کے مزاج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ’مسلم مخالف‘ کردار سی پی آئی ایم کا موقف بن رہا ہے۔ مسلم مخالف تبصرے اور مسلمانوں کو مسلسل طعنے دینے والے اپنے لیڈران کی تردید نہ کرنے والی پارٹی کے موقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لیڈران پارٹی کی ہدایت پر یہ بیانات دے رہے ہیں۔

سی پی آئی ایم GAILاور NHجیسے عوامی تحریکوں کے خلاف ہونے والی تحریکوں میں مسلمانوں کی موجودگی کو انتہا پسندی کے طور پر دیکھتی ہے۔ سی پی آئی ایم ایک ایسی پارٹی ہے جس نے MEC7 میں بھی انتہا پسندی پائی ہے، جو لوگوں کی صحت کی عادات کو فروغ دینے کا ایک اجتماع تھا۔ سی پی ایم، اسلامو فوبیا کو بڑھاوا دے کر، سنگھ پریوار کو اپنے نفرت پر مبنی پروپیگنڈے کے لیے زمین بنانے میں ایک طویل عرصے سے مصروف ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی نے شمالی ریاستوں میں سی پی آئی ایم کے لیڈران بشمول کیرالہ کے سابق چیف منسٹر وی ایس اچوتھانندن کے مسلم مخالف حوالہ جات کو وسیع پیمانے پر پھیلا کر فائدہ اٹھایا ہے۔ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر سی پی اے لطیف نے کہا کہ وقتی سیاسی فائدے کے لیے سی پی ایم کے یہ بیانات سیکولر کیرالہ کے لیے نقصان دہ ہیں۔


 

Comments