نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) مدھیہ پردیش ریاستی وفد نے چھتر پور شہر میں بلڈوزنگ کے متاثرین سے ملاقات کی اور انہیں تسلی دی۔ کانگریس کے سابق صدر اور سابق ضلعی نائب صدر حاجی شہزا دعلی کے گھر کو چند روز قبل ایک ہندو "سنت"کے گستاخانہ تبصرے پر احتجاج کے بعد منہدم کردیا گیا تھا۔ وفد میں ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر اڈوکیٹ ودیاراج مالویہ، نائب صدر عرفان الحق انصاری، اڈوکیٹ وانکھیڑے، اڈوکیٹ رگھویر کیر، اڈوکیٹ کیلاش بھارتی اور اروند مہر شامل تھے۔ ایس ڈی پی آئی کی وفد نے متاثرین کو انصاف کے حصول کے لیے قانونی مدد سمیت ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔ دریں اثناء، ایس ڈی پی آئی نے سپریم کورٹ کی طرف سے بلڈوزر کارروائی کو غیر قانونی قرارد ینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ جسٹس بی آر گاوائی اور کے وی وشواناتھن پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ کا یہ اقدام کہ وہ مکانات اور عمارتوں کے انہدام سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے پورے ہندوستان میں رہنما خطوط جاری کرے گا، اقلیتی برادریوں خاص طور پر مسلمانوں اور دلتوں کے لیے بہت اطمینان بخش ہے۔جن کوسنگھ پریوار کے حکمران اپنی ریاستوں میں معمولی وجوہات کی بنا پر انہیں سڑکوں پر پھینک پر اندھا دھند بلڈوز کارروائی کے ذریعہ ان کے رہائش گاہوں کو منہدم کرتے رہے ہیں۔ عدالت عظمی نے سوال کیا ہے کہ کسی کا گھر صرف اس لیے کیسے گرایا جاسکتا ہے کہ وہ ملزم ہے جب کہ قانون کسی سزا یافتہ کے گھر کو بھی گرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ایس ڈی پی آئی نے امید ظاہر کی ہے کہ سپریم کورٹ کی مداخلت سے بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں بلڈوزر کے ذریعہ غیر قانونی انہداموں کا خاتمہ ہوگا۔


Comments
Post a Comment