نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ حکومت کا وقف ایکٹ میں ترمیم کا اقدام آئین کو تباہ کرنے کی طرف ایک اور قدم ہے۔ نیز وقف ایکٹ میں ترمیم کا مرکزی حکومت کا اقدام بدنیتی پر مبنی قدم ہے۔یہ آئین کی آرٹیکل 28۔25کے تحت دی گئی مذہبی آزادی کے بنیاد ی حق سے انکار اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر نظر انداز کرنے اور انہیں غلام بنانے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ یہ فرقہ وارانہ ایجنڈا مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے لیے ہے جیسا کہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز گولوالکر نے تصور کیا تھا جسے ایک دہائی قبل مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت انجام دے رہی ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کے عبادت گاہوں کو غیر قانونی تجاوزات کا الزام لگا کر مسمار کیا جارہا ہے، دوسری طرف مسجدوں کے نیچے مورتیاں ملنے کا دعوی کرتے ہوئے قبضہ کرکے انہیں مندروں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔مسلم کمیونٹی کو بری طرح متاثر کرنے والے قوانین کا نفاذ باقاعدگی سے جاری ہے، مرکزاور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں حکومت کی اہم سرگرمیاں مسلمانوں کو ہراساں کرنے پر مرکوز ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے ا س بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف املاک عوامی املاک نہیں ہیں، بلکہ وہ جائیدادیں جنہیں مسلمانوں نے مختلف مذہبی مقاصد کیلئے عطیہ کیا ہے۔جیسے مساجد، مدارس، خیراتی اور تعلیمی اداروں، اسپتالوں کی تعمیر وغیرہ،۔ وقف بورڈ اور وقف املاک کی سرگرمیوں کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے وقف ایکٹ پہلے سے ہی موجود ہے اور اس ایکٹ میں ترمیم کا موجودہ اقدام خلاف آئین اور من مانی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی طاقت رکھنے والے بہت سے دولت مند لوگوں کے ذریعہ وقف املاک کا بڑے پیمانے پر قبضہ کیا گیا ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ وقف املاک کے استعمال پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ایسی غیر قانونی طور پر تجاوز شدہ وقف املاک کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اقدامات شروع کرے۔ ایس ڈی پی آئی مرکزی حکومت کے فرقہ وارانہ ایجنڈے پر شدید احتجاج کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس خلاف آئین اقدام سے پیچھے ہٹے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آئینی حقوق ملک کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز دستیاب کرائے جائیں۔

Comments
Post a Comment