ایس ڈی پی آئی کی جانب سے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دینے والے شخصیات کو سال 2024" تمل سوڈر ایوارڈ"

چنئی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) تمل ناڈو کی جانب سے ریاست میں سماج
کے
 مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دینے والے شخصیات اور کارکنان کا انتخاب کرکے ان کی حوصلہ افزائی اور ان کے اعزاز میں ہر سال "تمل سوڈر "ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ گزشتہ 7سالوں سے ایس ڈی پی آئی منتخب افرا دکو تمل سوڈر ایوارڈ دیتی آرہی ہے۔ امسال 2024میں آنجہانی کیپٹن وجئے کانت، وی آئی ٹی وائس چانسلر ڈاکٹر وسواناتھن، ڈائرکٹر ماری سیلواراج اور دیگر کو ایوارڈ سے نواز گیا۔ اس سلسلے میں گزشتہ 13جولائی 2024کو چنئی، ایگمور، فیض محل میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔

ایس ڈی پی آئی کے ریاستی نائب صدر عبدالحمید نے تقریب کی صدارت کی، ایس ڈی پی آئی کی ریاستی صدر محمد مبارک نے منتخب شخصیات کو ایس ڈی پی آئی کے "تمل سوڈر ایوارڈز "سے نوازا۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کی ادبی ٹیم کے سکریٹری، سابق وزیر وائیگئی سیلون نے خصوصی مدعو کے طور پر تقریب میں شرکت کی اور مبارکبادی تقریر کی۔

اس کے علاوہ ایس ڈی پی آئی پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹریان احمد نووی، اے ایس فاروق، نظام محی الدین، ریاستی آرگنائزنگ  جنرل سکریٹری نصیر الدین، ریاستی سکریٹریان رتنم، اے کے کریم، ابوبکر صدیق، راجہ حسین، نجمہ بیگم، ریاستی خزانچی امیر حمزہ، ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی۔ ممبران اے.ایس ایس شفیق احمد اور محمد رشید نے قیادت کی۔

اس کے علاوہ ایس ڈی پی آئی پارٹی کے چنئی شمالی اور جنوبی زون کے ضلعی قائدین جنید انصاری، جعفر، بھٹو محی الدین، سینی محمد، محمد بلال، محمد سلیم، سیداحمد، عبدالرزاق، ملک، زبیر علی،جعفرشریف اور دیگر نے قیادت کی۔

تقریب میں منتخب شخصیات کو ایس ڈی پی آئی پارٹی کی "تمل سوڈرایوار ڈ" 2024سے نواز ا گیا۔ اس کے مطابق ایس ڈی پی آئی نے ڈی ایم ڈی کے (DMDK) کے بانی آنجہانی کیپٹن وجے کانت، جنہیں معزز" قائد ملت ایوارڈ "کے لیے منتخب کیا گیا تھا، ڈی ایم ڈی کے کی جنرل سکریٹری محترمہ پریما لتا کو ریاستی صدر محمد مبارک کے ہاتھوں ایوارڈ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد وی آئی ٹی یونیورسٹی کے چانسلر اور سابق وزیر ڈاکٹر جی وشواناتھن کو پیرونتھلایو "ر کاماراج ایوارڈ "، فلم ڈائریکٹر ماری سیلواراج کو " ڈاکٹر امبیڈکر ایوارڈ "، مدراس ہائی کورٹ کے وکیل مسٹر جمراج ملٹن کو " پیریار ایوارڈ"، مصنف و سماجی کارکن اے متھو کرششن کو" کوی کو ایوارڈ "اور"پلنی بابا ایوارڈ" تملگا مکل جنانائیگا کٹچی " کے صدر  کے ایم شریف اور نیچرل سائنٹسٹ " نملوار ایوارڈ "قدرتی زراعت کے کارکن مسٹر۔ سجاد علی اور مدر ٹریسا ایوارڈ سماجی کارکن مسز کو فریحہ سمن کودیا۔ کوئمبتور سنٹرل ڈسٹرکٹ صدر مصطفی کو " سعید صاحب ایوارڈ"  سے نوازاگیا۔ 

ایس ڈی پی آئی پارٹی کے ریاستی صدر محمد مبار ک نے ایوارڈ پیش کرنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ سال 2017 سے، ہر سال ایس ڈی پی آئی پارٹی بہترین شخصیات اور سماجی خدمات انجام دینے  والوں کو لیڈروں کے نام پر ایوارڈ دے کر ان کا اعزاز کرتی آرہی ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کے نام پر ایوارڈ، جنہوں نے مظلوم برادریوں کے لیے جدوجہد کی، قائد ملت کے نام سے ایوارڈ، جنہوں نے آئین ساز اسمبلی میں بلند آواز سے یہ اعلان کیا کہ ہندوستان کی سرکاری زبان بننے کا حق صرف تمل کو ہے، تنتی پیریار کے نام سے ایوارڈ جنہوں نے سماجی انصاف کی رہنمائی کی اور ہندوستان کے لیے ایک رول ماڈل بن گئے۔کامراج کے نام پر ایوارڈ جنہوں نے نہ صرف تعلیمی انقلاب لائی بلکہ انہوں نے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے وژن کے ساتھ ڈیم بنائے۔، قدرتی سائنس دان ایا نم آلوار کے نام سے ایک ایوارڈ جنہوں نے فطرت کے لیے جدوجہد کی۔تمل کو بہترین نظمیں اور اشعار دینے والے تمل شاعر کوی کو کے نام سے ایوارڈ۔پلنی بابا کے نام سے ایک ایوارڈجنہوں نے اس وقت فاشسٹ دہشت گردی کے بارے میں بیداری پیدا کی جب یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا ہے۔اسی طرح مدر ٹریسا کے نام پر ایک ایوارڈ ہو سکتا ہے جو انسانیت کے لیے ایک رول ماڈل تھیں۔

اسی طرح ایس ڈی پی آئی کے سابق قومی صدر مرحوم سعید صاحب کے نام پر ایک ایوارڈ رکھا گیا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو مظلوم برادری کی سیاسی بہتری اور سماجی انصاف کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر محمد مبارک نے کہا کہ مذکورہ ایوارڈ سیاسی مقاصد سے پرے ہیں۔ مذکورہ ایوارڈ مح ض سماجی خدمات کی اجاگر کرنے اور انہیں حوصلہ افزائی کرنے اور نئی نسل کو اس طرف راغب کرنے کیلئے دیئے جاتے ہیں۔ ہم یہ ایوارڈ اس بات پر زور دینے کے لیے پیش کرتے ہیں کہ ملک کو موجودہ حالات میں ان شخصیات کی خدمات کی کتنی ضرورت ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ مزید محنت کریں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس امید کو پورا کریں گے۔ میں ایس ڈی پی آئی کی جانب سے  ایوارڈ حاصل کرنے والے تمام شخصیات کو مبارکباد دیتا ہوں۔تقریب میں ایس ڈی پی آئی کے منتظمین، رضاکاروں اور مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے منتظمین سمیت ایک ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔


 

Comments